نئی دہلی،28؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی حکومت کے ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کے ساتھ ہی سوئٹزرلینڈ نے بھی اپنے یہاں بینکوں میں پیسہ رکھنے والے ہندوستانیوں پر شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔سوئٹزرلینڈ نے ایسے ہندوستانیوں کے سلسلے میں اطلاعات شیئر کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔بلیک منی جمع کرنے کے لئے سب سے محفوظ جگہ مانے جانے والے سوئٹزرلینڈ نے گزشتہ ہفتے ہی قریب ایک درجن ہندوستانیوں کو اس سلسلے میں نوٹس تھمایا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے حکام نے مارچ سے اب تک سوئس بینکوں کے ہندوستانی گاہکوں کو کم از کم 25 نوٹس جاری کرکے ہندوستانی حکومت کے ساتھ ان کی معلومات شیئر کرنے کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا گیا ہے۔سوئٹزرلینڈ کے فیڈریل ٹیکس ایڈمنسٹریشن کی طرف سے جاری نوٹسوں کا تجزیہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ سوئس حکومت نے ایسے اکاؤنٹ ہولڈروں کا نام بہت سے ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کے عمل کو گزشتہ چند دنوں میں تیز کر دیا ہے۔خاص طور پر اگر ہندوستان کی بات کریں تو اس طرح کے معاملات میں گزشتہ چند ہفتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ہندوستان کی نریندر مودی حکومت نے بیرون ملک کالا دھن جمع کرنے والوں کے خلاف سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے گزٹ کی طرف سے جاری عوامی کی گئی معلومات پر سوئس بینکوں میں اکاؤنٹ ہولڈروں کا مکمل نام نہ بتا کر صرف نام کے ابتدائی حروف بتائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ صارفین کی قومیت اور تاریخ پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے۔گزٹ کے مطابق، صرف 21 مئی کو 11 ہندوستانیوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔سوئس حکام نے جن دو ہندوستانیوں کا مکمل نام لکھا ہے ان کے نام ہیں مئی 1949 میں پیدا ہوئے کرشن بھگوان رام چند اور ستمبر 1972 میں پیدا ہوئے کلپیش ہرشد کناریوالا شامل ہیں،تاہم ان کے بارے میں دیگر معلومات کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔دیگرناموں میں جن ابتدائی حروف بتائے گئے ہیں ان میں 24 نومبر 1944 کو پیدا ہوئیں مسز اے ایس بی کے، نو جولائی 1944 کو پیدا ہوئے اے بی کے وائی، دو نومبر 1983 کو پیدا ہوئیں مسز پی اے ایس، 22 نومبر 1973 کو پیدا ہوئیں مسز آراے ایس، 27 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے پی ایس، 14 اگست 1949 کو پیدا ہوئیں ای ڈی ایس، 20 مئی 1935 کو پیدا ہوئے ایم ایل اے، 21 فروری 1968 کو پیدا ہوئے این ایم اے اور 27 جون 1973 کو پیدا ہوئے ایم ایم اے میں شامل ہیں۔یہ نام کون ہیں اس پر اب ہندوستان میں انتہائی تجسس پیدا ہو رہا ہے۔ان نوٹسوں میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ گاہک یا ان کا کوئی نمائندہ ضروری دستاویزات کے ساتھ 30 دن کے اندر اندر اپیل کرنے کیلئے موجود ہوں اور یہ بتائے کہ اس کے اکاؤنٹ سے منسلک معلومات حکومت ہند کو کیوں نہ بتائی جائیں۔بتا دیں کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں کو اکاؤنٹ رکھنے والے گاہکوں کی رازداری برقرار رکھنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے لیکن ٹیکس چوری کے معاملے میں عالمی سطح پر معاہدے کے بعد رازداری کی یہ دیوار اب محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔اکاؤنٹ ہولڈروں کی اطلاعات شیئر کرنے کو لے کر حکومت ہند کے ساتھ اس نے معاہدہ کیا ہے۔دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کئے گئے ہیں۔